At a distance of seven kilometers from Pasrur towards Janu, there is a small village called Balu Tola of Union Council Dholda with a total population of 80 to 85 houses. Of which five to seven houses belong to Qadianis. Local people say that before the creation of Pakistan, there was a mosque inside this village where Muslims used to pray. After the creation of Pakistan, this mosque was built two to three times by Muslims.
Asif Dhallu (Village Ballu Tola)
Our ancestors lived here even before the creation of Pakistan. Our ancestors used to tell us that when these people migrated from India, some of them were Qadiani and some were Muslims. This was a mosque, they started worshiping in this neighborhood. Muslims used to offer their prayers, those who were Qadianis used to worship themselves.
Master Khalil Ahmad (Village Ballu Tola)
Some of its back story is as follows: Before the partition of Pakistan in 1947, there was a Sikh community and a Muslim community, and when Pakistan was formed in 1947, the people of Gurdaspur district came here from India, some of them were Qadiani. And some who were Muslims, when they came here, there was only one mosque in an entire village. There was a mud mosque, the people who were Muslims used to offer prayers there, some Qadianis and some Muslims who were burnt to death in this mosque started offering prayers in this mosque.
Fauji Sarwar (Village Ballu Tola)
Because at that time the Muslims did not know who the Qadiani were. Before 1973, there was no difference between Muslims and Qadianis. Four years ago, this mosque was martyred again, lanterns were put on it and minarets were placed on top of it. So at that time, if it belonged to the Qadianis, it would have to be a Mirzai place or a Bait al-Zekar, the shape of the mosque was not given. This is Muhammad Buta, he is also his relative. He said that we will put a minaret on the one that is ours in the mosque, because it is ours in the mosque. These Muslims are not our brothers, they are their relatives, that’s why we keep saying that if we say something to them, it will be revealed to our brothers that they are relatives. So, talk to them. After talking to them, we gathered them together and told them to resolve the matter of this mosque, it is our mosque and give us the mosque. He refused and said that neither the minaret should be taken down nor this mosque should be given to him.
The last time it was built, Qadianis occupied this mosque of Muslims. The local Muslims were going to get this mosque when the Qadianis started firing on them as a result of which Akmal and Yasir were seriously injured. According to the local population, the Qadianis here have a lot of illegal weapons which they display and periodically fire in the air to spread fear in the area.
Asif Dhallu (Village Ballu Tola)
Those who were Qadiani started firing every day at intervals. When they realized that fear and panic had spread over most of the Muslims. Two Muslim boys have been shot and three boys have been beaten.
Akmal Shaheen, victim of firing (Village Dhariwal)
The Muslim mosque is in Balutola and is occupied by the Mirzais. So we left the house to rescue the mosque and on the way we were stopped by the Marzais and they started firing directly on us without any conversation. I was shot in the chest and my cousin was shot in the leg.
Muhammad Yasir, victim of firing (Village Dhariwal)
On the way, these people stopped us and without asking us the reason, they attacked us with firing, bricks etc. and sticks etc. and there was fire on my leg and I fell down there.
Akmal Shaheen, victim of firing (Village Dhariwal)
Before this fire, we did not have any enmity with them or any incident. They were living peacefully but we were going to take the mosque, they stopped us on the way and started firing on us.
Muhammad Yasir, victim of firing (Village Dhariwal)
The bullet in my leg has gone through the inside of the leg and has crossed over. The doctors have said that it will take 20 or 25 days to recover. Yes, Qadiani has enough weapons. It funds them from outside countries. They take weapons etc. and keep firing in the air and they have kept people scared in the area.
Master Khalil Ahmad (Village Ballu tola)
Before this, it is clear in the history of this period that no Qadiani was abused by Muslims, nor was there any document of religious base. And they were living in their peace, living in their own limits, and those who were Muslims were living their lives in their own limits.
Akmal Shaheen, victim of firing (Village Dhariwal)
When the Qadianis attacked us. We did not quarrel with them, nor did we take any revenge. But we used the legal route. Filed an FIR, and complains that we want justice.
Surely, now all of you understand the reality of about Qadiani’s so called slogan.
LOVE FOR ALL, HATRED FOR NONE.
پسرور سے جنوں کی جانب سات کلومیٹر کے فاصلے پر یونین کونسل ڈھونڈا کا ایک چھوٹا سا گاؤں بلو تولہ واقع ہے جس کی کل ابادی 80 سے 85 گھروں پر مشتمل ہے۔جن میں سے پانچ سے سات گھر قادیانیوں کے بھی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے اس گاؤں کے اندر پاکستان بننے سے پہلے ایک مسجد موجود تھی جہاں مسلمان نماز پڑھتے تھے پاکستان بننے کے بعد اس مسجد کو مسلمانوں نے دو سے تین مرتبہ تعمیر کیا۔
آصف ڈھلو(گاؤں بلوتولہ)
یہ جو پاکستان بننے سے پہلے ہی نا ہمارے باپ دادا یہاں کے مقیم ہیں ہمارے اباؤ اجداد بتاتے تھے جب یہ انڈیا سے ہجرت گر کے کچھ لوگ ائے ان میں کچھ لوگ قادیانی تھے کچھ مسلمان تھے۔ یہ جو ادھر مسجد تھی، اس محلہ میں اس میں عبادت کرنے لگے۔مسلمان اپنی نماز پڑھتے تھے وہ جو قادیانی حضرات تھے وہ اپنی عبادت کرتے تھے۔
ماستٹر خلیل احمد (گاؤں بلوتولہ)
اس کی کچھ بیک کہانی اس طرح ہے کہ 1947 پاکستان یہ جو پارٹیشن سے پہلے یہاں سکھ برادری اور مسلمان برادری اتی تھی اور جب 1947 میں پاکستان بنا تو انڈیا سے گرداس پور ضلع کے رہنے والے لوگ ادھر یہاں تشریف لائے ان میں کچھ لوگ قادیانی تھے اور کچھ جو تھے وہ مسلمان تھے جب یہاں ائے تو ایک پورے گاؤں میں ایک ہی مسجد تھی،کچی مسجد تھی وہاں جو لوگ یہ مسلمان تھے وہ نماز پڑھا کرتے تھے ا کے یہ گرداسپور جلے والے کچھ قادیانی اور کچھ مسلمان اس مسجد میں نماز پڑھنا شروع کی تھوڑے سے عرصے کے بعد انہوں نے نا اس مسجد کو شہید کیا اور پکی شکل دی۔
فوجی سرور (گاؤں بلوتولہ)
اس مسجد کا میں پیدائشی جاننے والا ہوں، کیونک اپنے ہاتھوں سے تیار کی ہے۔ میرے والد صاحب ادھر نماز پڑھتے رہے ہیں، میرے دادا ادھر نماز پڑھتے ہیں۔جتنے اہل سنت کے گھر ہیں تمام یہاں اکٹھے نماز پڑھتے رہے ہیں.سر وہ مسجد بنی ،لیکن منار نہ لگنے دیں.وہاں پہ کسی مسلمان بھائی نے کہہ دیا کہ مینار نہ لگائیں۔میں نے انہیں کہا میں خود مسلمان ہوں اور خود بنوا رہا ہوں، خود میں نا لگوا رہا ہوں.انہوں نے کہا ٹھیک ہے جی بناؤ۔ہم نے مسجد تیار کی اس کو پلستر اور وضو خانےکی ٹوٹیاں ہر چیز لگوائی اور مسجد تیار ہو گئی۔تیار ہونے کے بعد یہ لوگ یعنی قادیانی اپنا مربی لے ائے اور اندر گھسا دیا۔ وہ تقریبا سال چھ ماہ رہا، پھر وہ فوت ہو گیا۔اس کے بعد پھر یہ کوئی بچہ (چھوٹی عمر کا مربی) لے آئے۔
ماسٹر خلیل احمد (گاؤں بلوتولہ)
کیونکہ اس وقت تو مسلمانوں کوشعور ہی نہیں تھا کہ قادیانی کون ہیں؟ ۱۹۷۳ سے پہلے مسلمانوں اور قادیانیوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔چار سال سے پہلے دوبارہ جو ہے یہ مسجد پھر شہید ہوئی، اس پر لینٹر ڈالا گیا اور اس کے اوپر مینار لگے۔تو اس وقت اگر یہ قادیانیوں کی ہوتی تو وہ تومرز والا بننا تھا یا بیت الذکر بننا تھا مسجد کی شکل تو نہیں تھی دینی۔ہ ہمارے بھائی ہیں سرور صاحب یہ ان کے رشتہ دار ہیں یہ ادھر جو ہے اس مسجد کے گارڈین بھی تھے اور یہ محمد بوٹا ہیں یہ بھی ان کے رشتے دار ہیں انہوں نے کہا کہ جو مسجد میں ہماری ہے یہ اس پہ ہم مینار لگائیں گے کیونکہ یہ مسجد کی ہماری ہے ایسی اس پہ ہم نے لگائے ہیں یہ جو مسلمان ہیں نا ہمارے بھائی ان کے وہ رشتہ دار ہیں جس وجہ سے ہم اگنور کرتے رہے کہ یار اگر ہم نے ان کو کچھ کہا تو یہ ہمارے بھائی سامنے ا جائے گی کہ ان کی رشتہ داریاں ہیں۔ تو ایسا ہو کہ ان سے بات کر لیں۔ان سے بات کر کے ان کو اکٹھا کیا ان کو بھی اکٹھا کیا کہ یار یہ مسجد والا معاملہ جو ہے حل کر لیں ہماری مسجد ہے یہ ہمیں مسجد دے دیں۔انہوں نے انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ نہ تو مینار اترنے دینے ہیں اور نہ یہ مسجد دینی ہے اس کو ہم نے یہ ہمارا جو ہے وہ بیت الذکر ہے.
اخری مرتبہ جب اسے پختہ تعمیر کیا گیا تو قادیانیوں نے مسلمانوں کی اس مسجد پر قبضہ کر لیا. مقامی مسلمان اس مسجد کو حاصل کرنے جا رہے تھے کہ قادیانیوں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی اس کے نتیجے میں اکمل اور یاسر شدید زخمی ہو گئے. مقامی ابادی کے مطابق یہاں کی قادیانیوں کے پاس بہت سارا ناجائز اسلحہ موجود ہے جس کی وہ نمائش کرتے ہیں اور وقتا فوقتا ہوائی فائرنگ کر کے علاقے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔
آصف ڈھلو(گاؤں بلوتولہ)
جو قادیانی حضرات تھے نا انہوں نے وقفے وقفے سے ہر روز فائرنگ کرنا شروع کردی۔جب انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ زیادہ ہی کچھ مسلمانوں کے اوپر خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مسلمانوں کے دو لڑکوں کو گولیاں لگی ہیں اور تین لڑکے ویسے ہی جو ہے ان کو ضربیں ائی ہیں۔
اکمل شاہین فائرنگ سے متاثرہ شخص (گاؤں ڈھاڑی وال)
مسلمانوں کی مسجد بلوتولہ میں اور مرزائیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ تو ہم ادھر گھر سے نکلے تھے مسجد چھڑوانے اور راستے میں ہم کو مرزئیوں نے روکااور انہوں نے کوئی بات چیت نہیں کی سیدھا ہمارے اوپر فائرنگ کرنا شروع کر دی۔اور مجھے سینے پر پوری لگی ہے اور میرے کزن کو ٹانگ پر گولی لگی ہے۔
محمد یاسر ، فائرنگ سے متاثرہ شخص (گاؤں دھاڑی وال)
راستے میں ان لوگوں نے ہمیں روکا اور ہمیں وجہ پوچھنے کے بغیر ہی انہوں نے ہم پہ حملہ کیا فائرنگ کی اینٹیں وغیرہ اور ڈنڈے وغیرہ سے حملہ کیا اور میری لات پہ فائر لگا ہوا ہے میں ادھر ہی گر گیا تھا فائر لگا تھا۔
اکمل شاہین، فائرنگ سے متاثرہ شخص (گاؤں ڈھاڑی وال)
یہ جو فائر لگا ہے نا اس سے پہلے ہماری نہ ان کے ساتھ کوئی دشمنی تھی نہ کوئی واقعہ تھا. بڑے امن سکون سے رہ رہے تھے لیکن ہم مسجد لینے کے لیے جا رہے تھے انہوں نے ہمیں راستے میں روک لیا اور ہمارے اوپر فائرنگ کرنا شروع کر دی .
محمد یاسر ، فائرنگ سے متاثرہ شخص (گاؤں دھاڑی وال)
میرے جو ٹانگ میں گولی لگی ہے وہ ٹانگ کے اندر سے گزر گئی ہے ار پار ہو گئی ہے ڈاکٹروں نے کہاہے کہ ابھی ٢٠ یا 25 دن ٹھیک ہونے میں لگ جائیں گے. جی قادیانی کے پاس کافی اسلحہ ہے یہ باہر کے ملکوں سے ان کو فنڈ اتا ہے یہ ادھر اسلحہ وغیرہ لیتے ہیں اور ہوائی فائرنگ کرتے رہتے ہیں اور علاقے میں کافی انہوں نے ڈرا کے رکھا ہوا ہے لوگوں کو .
ماسٹر خلیل احمد (گاؤں بلوتولہ)
اس سے پہلے اس دور کی تاریخ میں یہ بات واضح ہے نہ کسی قادیانی پر مسلمانوں کی طرف سے زیادتی ہوئی ہے، نہ کوئی پرچہ ہوا ہے مذہبی بیس کی. اور بڑے امن سکون سے وہ کلیر تھی وہ اپنے سکون میں رہ رہے تھے اپنی حدود میں رہ کے اور مسلمان جو تھے وہ اپنےحدود میں رہ کے جو زندگی بسر کر رہے تھی.
اکمل شاہین، فائرنگ سے متاثرہ شخص (گاؤں ڈھاڑی وال)
جب قادیانیوں نے ہم پر حملہ کیا۔ ہم نے کوئی ان کے ساتھ جھگڑا نہیں کیا، نہ کوئی بدلہ لیا۔ لیکن ہم نے قانونی راستہ استعمال کیا۔ ایف آئی آر کروائی، پرچے کٹوائے کہ ہمیں انصاف چاہیئے بس۔
https://www.youtube.com/watch?v=O3TY06s8_tI&list=PL6E_lWgR7jF4s119NDJh7tFk-jmyYXJfl&index=45