I was born on the 27th of Ramadan in the very first house in Rabwah belonging to a Qadiani family. When I was seven years old, I completed the Quran. At that time, I had a dream where I saw Hazrat Ali (may Allah be pleased with him) and Syeda Fatima (may Allah be pleased with her). When I turned 16, despite my family’s objections, I embraced Islam and left Qadianism.
My name is Muhammad Attaullah. I was born on the 27th of Ramadan in the first house in Rabwah belonging to a Qadiani family. When I was seven years old, I completed the Holy Quran, and at that time, I had a dream where I was blessed to see Syedna Ali (may Allah be pleased with him) and Syeda Fatima (may Allah be pleased with her). When I turned 16, by the grace of Allah and the kindness of His beloved Prophet Muhammad (peace be upon him), I was guided towards Islam. Despite facing opposition from my family, I left Qadianism and embraced Islam.
The purpose of this video is to convey a message to our Muslim and Qadiani brothers, friends, and elders that we have come into this world by the command of Allah, and we must return to Him. Therefore, our first and foremost relationship should be with our Pure Lord and His beloved Prophet Muhammad (peace be upon him), not that we love our parents, our tribe, and our religion more than Allah and His beloved (peace be upon him). This should be the voice of a true believer’s heart, and you should respond to that voice.
When Allah, the Most Exalted, awakened Islam in my heart, I was 16 years old. Praise be to Allah, I was a good student during my schooling and college life. Allah had granted me beauty and intelligence in worldly terms. This made me question why Ahmadi Muslims call each other liars, and Muslims call Ahmadis liars. One of them must be wrong; both can’t be right. So, when I set out in search of the truth, my Pure Lord’s command is:
“Take a step towards me, and I’ll take ten steps towards you.”
I came across some claims made by Mirza Ghulam Ahmad Qadiani in his various books, the first and most fundamental claim being that he is God. In different places, he refers to himself as God, claims to be the wife of God Almighty, calls himself the son of God Almighty, and even says he is the father of God Almighty, God forbid. Such things cannot be accepted by any sensible person. When I found out about these claims, I traveled to various places to investigate whether these claims were true or if he was being falsely accused.
When I arrived in Lahore on this search, I faced some failures in assessing certain things. Then, Allah guided me and led me to a scholar who ran a religious school. He was around 70 years old. With great kindness, he invited me to sit with him and said, “Son, I don’t have proof of what you want to see. But in your quest to distinguish between truth and falsehood, there are not just one or two, but dozens, even hundreds of ways to recognize it.” I asked him if he had any other methods to suggest. He then brought out an 83-year-old book from his library. The book was written by Mirza Ghulam Qadiani. In it, Mirza states words I still remember. Let me repeat them for you. Mirza says that:
“Now another enemy has arisen who claims to be a Muslim, named Dr. Abdul Hakim. This person pledged allegiance to me and was with my companions for a full 20 years. He has now become an apostate (meaning he has become a Muslim) and keeps saying that I (meaning Mirza) will die by August 4, 1908, and that will be a sign of my falsehood. However, I (meaning Mirza) say that he (meaning Dr. Abdul Hakim) will die by August 4, and I will be alive, and surely Allah will support the truthful.”
When I read Mirza Sahib’s claim that I would live until August 4, 1908, and Dr. Abdul Hakim would die, and that indeed God supports the truthful, the first question that came to my mind was, what is Mirza Sahib’s date of death? It’s important to note here that a Prophet is God’s representative, and God proves the claims of His representative to be true. To verify this claim, there is a building on Brandress Road in Lahore named Mohammadi Market, where Mirza died. I went to that building, and I reached the room where he had his booking, which mentioned Mirza Sahib’s date of death. When I checked Mirza’s date of death, it was May 26, 1908. As an intermediate student, it was very easy for me to understand that May 26 comes before August 4. And in this claim, Mirza was proven to be a liar.
After Mirza’s claim was proven false, it became really easy for me to understand that a prophet of God is a representative of God Himself. Whatever claim they make, they make it on behalf of God. And God doesn’t let His representative be proven a liar.
It became clear to me that Mirza is a fraud in all his claims. Realizing this, I accepted Islam at the hands of a religious scholar right there in Lahore. After that, Allah granted me the ability to scrutinize the various claims Mirza made, such as being God, God’s wife, God’s son, God’s father, a prophet, the Mahdi, Moses, and Jesus, among others. Following that, Allah, the Most Exalted, bestowed upon me such knowledge that it became easy for me to see that Mirza is not just lying in one claim, but in dozens of them.
And remember this my friends, elders, and sisters, that no liar can be a prophet.
میری پیدائش 27 رمضان المبارک کو ایک قادیانی فیملی میں ربوا کے سب سے پہلے گھر میں ہوئی. جب میری عمر سات سال کی تھی تب میں نے قران پاک مکمل کیا. اس وقت مجھے خواب میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت نصیب ہوئی. جب میری عمر 16 سال کی ہوئی تو میں نے فیملی کی مخالفت کے باوجود قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا.
میرا نام محمد عطاء ال اللہ ہے میری پیدائش 27 رمضان المبارک کو ایک قادیانی فیملی میں ربوا کے سب سے پہلے مکان میں ہوئی جب میری عمر سات سال کی تھی تب میں نے قران پاک مکمل کیا اس وقت مجھے خواب میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت نصیب ہوئی جب میری عمر 16 سال کی تھی تو اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اور اس کے محبوب نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نظر کرم سے مجھے اللہ تعالی نے اسلام کی طرف ہدایت دی اور میں اپنی فیملی کی مخالفت کے باوجود قادیانیت کو چھوڑ کر مشرف اسلام ہوا۔
اس ویڈیو بنانے کا مقصد اپنے ان مسلمان اور قادیانی بہن بھائیو دوستو اور بزرگوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ہم اس دنیا میں اللہ تعالی کے حکم سے ائے ہیں اور ہمیں اسی کے پاس جانا ہے۔ تو ہمارا پہلا اور اخری تعلق اپنے پاک پروردگار سے اور اس کے محبوب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا چاہیے۔ نہ کہ یہ کہ ہم اپنے والدین، اپنے قبیلے اور اپنے مذہب سے اللہ تعالی اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر محبت کریں۔یہی ایک سچے مومن کی دل کی اواز ہونی چاہیے اور اسی اواز پر اپ کو لبیک کہنا چاہیے۔
جب اللہ سبحانہ و تعالی نے میرے دل میں اسلام کو بیدار کیا تب میری عمر 16 سال کی تھی۔ الحمدللہ میں اپنے سکولنگ میں اور کالج لائف میں ایک اچھا سٹوڈنٹ تھا۔ اللہ تعالی نے دنیاوی لحاظ سے شکل و صورت، ذہانت سب کچھ عطا کیا تھا۔ تو ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا قادیانی مسلمانوں کو جھوٹا کہتے ہیں اور مسلمان قادیانیوں کو جھوٹا کہتے ہیں۔ تو دونوں یں سے ایک تو غلط ضرور ہے۔ دونوں تو ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ جب اس بات کی جستجو لے کر میں حق کی تلاش میں نکلا، تو میرے پاک پروردگار کا فرمان ہے:
” تم میری طرف ایک قدم اؤ ،میں دس قدم تمہاری طرف اؤں گا۔”
مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کے کچھ دعوے ملے جو اس نے اپنی مختلف کتابوں میں کیے تھے، جس میں سب سے پہلا اور بنیادی دعوی خدا ہونے کا تھا۔ مختلف جگہوں پر مرزا صاحب خود کو خدا کہتے ہیں، خدا تعالی کی بیوی کہتے ہیں، خدا تعالی کا بیٹا کہتے ہیں اور خدا تعالی کا باپ کہتے ہیں نعوذ باللہ۔ یہ چیز کسی بھی باشعور انسان کے لیے قابل قبول ہرگز نہیں ہو سکتی. جب یہ دعوے میرے سامنے ائے تو میں نے ان کی جستجو میں مختلف جگہوں پر سفر کیے . یہ جاننے کے لیے کہ یہ جو دعوے ہیں مرزا صاحب نے واقع کیے ہیں یا پھر یہ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے
اس جستجو میں جب میں لاہور پہنچا تو وہاں پر کچھ جگہوں پر مجھے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کہ میں ان چیزوں کو پرکھ سکوں۔ پھر اللہ تعالی نے مجھے ہدایت دی اور ایک ایسے عالم دین کے پاس پہنچایا جو کہ ایک مدرسہ چلاتے تھے۔ ان کی عمر 70 سال کے قریب ہو گی۔ انہوں نے مجھے بڑی شفقت سے اپنے پاس بٹھایا اور فرمانے لگے کہ بیٹا جو چیز تم دیکھنا چاہتے ہو اس کا پروف تو میرے پاس نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کے معاملے میں تم حق اور باطل کو پہچاننے میں نکلے ہو۔ اس کو پہچاننے کے ایک نہیں دو نہیں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں طریقے ہیں۔ میں نے کہا اپ کے پاس کوئی اور طریقہ ہے تو بتائیں۔ وہ اندر سے اپنی لائبریری سے ایک 83 سال پرانے کتاب نکال کر لے کر ائے۔ وہ کتاب مرزا غلام قادیانی کی لکھی ہوئی تھی۔ اس میں مرزا فرماتا ہے جس کے الفاظ مجھے اج بھی یاد ہیں. میں اپ لوگوں کے لیے ان کو ریپیٹ کر دیتا ہوں. مرزا کہتا ہے کہ:
” اب ایک اور دشمن مسلمان ہونے سے پیدا ہو گیا ہے جس کا نام ڈاکٹر عبدالحکیم ہے. اس شخص نے میری بیعت کی اور برابر 20 برس تک میرے مصائبین میں شامل رہا. وہ اب مرتد ہو گیا ہے( یعنی مسلمان ہو گیا ہے) اور کہتا پھر رہا ہے کہ میں( یعنی مرزا )چار اگست 1908 تک مر جاؤں گا اور یہ میرے جھوٹا ہونے کی نشانی ہوگی. جب کہ میں( یعنی مرزا) یہ کہتا ہوں کہ وہ (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم) چار اگست تک مر جائے گا اور میں زندہ رہوں گا اور بے شک اللہ تعالی سچے کی مدد کرے گا۔”
جب میں نے مرزا صاحب کے اس دعوے کو پڑھا کہ میں چار اگست 1908 تک زندہ رہوں گا اور ڈاکٹر عبدالحکیم مر جائے گا اور اللہ تعالی بے شک سچے کی مدد کرے گا۔ تو سب سے پہلا سوال میرے ذہن میں یہ ابھرا کہ مرزا صاحب کی ڈیٹ اف ڈیتھ کیا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ نبی اللہ تعالی کا نمائندہ ہوتا ہے اور اللہ تعالی اپنے نمائندے کے دعوے کو سچا ثابت کرتا ہے۔ اس دعوے کو پرکھنے کے لیے لاہور میں برانڈنس روڈ پر ایک عمارت ہے جس کا نام محمدیہ مارکیٹ ہے۔ جہاں مرزا کی ڈیتھ ہوئی۔ میں اس عمارت میں گیا اور وہاں جس کمرے میں انہوں نے بک رکھی ہوئی تھی، جس میں مرزا صاحب کی ڈیٹ اف ڈیتھ مینشن تھی وہاں پہنچا۔ جب مرزا کی ڈیٹ اف ڈیتھ اس میں چیک کی گئی تو وہ 26 مئی 1908 تھی۔ اور میرے لیے ایک انٹر کا سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے یہ سمجھنا بہت اسان تھا کہ 26 مئی چار اگست سے پہلے اتی ہے۔ اور اس دعوے میں مرزا جھوٹا ثابت ہوا۔
مرزا کے اس دعوے کے جھوٹا ثابت ہونے کے بعد میرے لیے یہ سمجھنا نہایت اسان تھا کہ نبی اللہ تعالی کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اور جو بھی دعوی وہ کرتا ہے وہ اللہ تعالی کے بہاف پر کرتا ہے۔ اور اللہ تعالی بھی اپنے نمائندے کو جھوٹا ثابت نہیں ہونے دیتا۔
تو یہ بات مجھ پر عیاں ہو گئی کہ مرزا اپنے باقی تمام دعووں میں بھی چھوٹا ہے۔ اور یہ دیکھ کر میں وہیں لاہور میں ہی انہیں عالم دین کے ہاتھ پر مشرف اسلام ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں باقی دعووں کی جو کہ مرزا نے خدا ہونے کے، خدا تعالی کی بیوی ہونے کے، خدا تعالی کا بیٹا ہونے کے، خدا تعالی کے باپ ہونے کے، اور نبی اور امام مہدی ہونے کے، اور موسی ہونے کے اور عیسی ہونے کے، اور مختلف نبیوں کے ہونے کے یہ جو دعوے کیے تھے ان کو میں پرکھ سکوں۔ اور اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالی نے مجھ کو اتنا علم عطا فرمایا کہ جس سے باسانی مجھے پتہ چل جائے کہ مرزا اپنے ایک نہیں بلکہ درجنوں دعووں میں جھوٹا ہے۔
اور یہ بات یاد رکھیے گا میرے دوستو، بزرگو اور میری بہنوں کہ کوئی جھوٹا شخص نبی نہیں ہو سکتا۔
https://www.youtube.com/watch?v=18j2rfPv5VU&list=PL6E_lWgR7jF4s119NDJh7tFk-jmyYXJfl&index=3