Select Page

قادیان میں اپ نے کیا دیکھا اور وہاں پہ اپ نے اس کو کیسا پایا؟

قادیان کو مکہ کی حیثیت دیتے ہیں۔ جو چناب نگر ہے اس کا پرانا نام ربوا تھا، انہوں نے خود رکھا تھا۔ سب سے پہلے اس کا نام چکیاں تھا۔ پھر اس کے بعد ربوا رکھا پھر نیا قادیان اور پھر چناب نگر۔

جب ہم لیٹر لکھا کرتے تھے، مرزا طاہر تھا اس زمانے میں۔ جب اس کو لیٹر لکھتے تھے تو لیٹر کے سائیڈ پر لکھتے تھے ربوا مدینہ منورہ۔ ہاں جی مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے یعنی کہ قادیان مکہ تھا ہمارے ذہن کو ایسے معاف کیا جاتا تھا۔ اور جو اس وقت کا نام تھا ربوا، ساتھ ہم لکھتے تھے ربوا مدینہ منورہ۔ لیٹر پر ہم خود لکھا کرتے تھے۔

تو ادھر جانے کے بعد، جس عقیدت سے میں گئی تھی یا میری والدہ یا پورا ایک گروپ گیا تھا، ادھر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ جو منارۃ المسیح کے ہمیں قصے سنائے جاتے تھے، جو ہمیں تصویریں دکھائی جاتی تھی، وہ ڈیش اینٹینا پہ ان کے پروگرامز اتے ہیں، اور وہ منارہ ایسے دکھاتے ہیں کا دنیا کے سب سے روشن منارہ یہی ہے۔ لیکن وہ بستی کے درمیان میں ہے اور اس کی الگ سے کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔ لمبی لمبی لائنز لگا لیتے ہیں منارۃ المسیح جو بنایا ہوا ہے، اس کو ہاتھ لگانے کے لیے، اس کے گرد گھومنے کے لیے، اس کے اندر باریک سی سیڑھیاں ہیں بس دو بندے اوپر جاتے ہیں۔ اتنی پریشانی سے اوپر جانا، پھر چومنا، پھر اپنا دوپٹہ اس پر پھیرنا منارۃ المسیح کو یعنی اب یہ دوپٹہ تو مس ہو گیا نا بڑی عقیدت سے۔

پھر جو ان کی بیت دعا ہے جس میں مرزا قادیانی بیٹھ کر دعا کرتا تھا پہلے کہتے تھے وہ بیت الخلا تھی۔ وہ چھوٹی سی ہے اس میں تین لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اگر اس میں جو دعا کرے گا وہ تو بلا حساب سیدھا جنت میں جائے گا۔ تو اس کے لیے لائنیں اتنی لمبی لمبی لگتی تھی کہ جو بزرگ لوگ تھے میں ان کو دیکھتی تھی کہ اتنی مشکل سے لائنوں میں لگے ہیں۔ ایک تو یہ دھکے کھا کھا کے قادیان پہنچے ہیں, ٹرینوں پر چڑھے ہیں پھر بسوں پر چڑھے ہیں پھر اترے ہیں اور اب یہ لائنوں میں ہے. اور سردیوں کے دن تھے اتنی زیادہ ٹھنڈ تھی یہ میلہ ان کا دسمبر میں ہوتا ہے, یہ جو کہتے ہیں جلسہ, یہ دسمبر میں ہوتا ہے. تو وہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے لکی ارانی سرکس کی طرح, کبھی ادھر چلے جاؤ کبھی ادھر کو۔ پھر مرزا قادیانی کی قبر پر روزانہ جانا، پھر مرزا قادیانی جہاں پر چہر کرنے کرتا تھا اپنی عورتوں اور یعنی اپنی بیویوں اور مختلف عورتوں کے جھرمٹ میں۔ اسٹیشن تک جانے کی سعادت تھی یعنی ٹرین دیکھنے کی۔ دو ٹرین تک ہم نے جانا اور اگر راستے میں کسی کو کوئی پتھر مل گیا ہے یہاں کوئی چھڑی مل گئی تو چوم لینی پکڑ کر اس کو اور اپنے ساتھ بیگ میں رکھ لینی۔

تو وہ جو عقیدت کی اندھی تلوار میں نے ادھر دیکھی کہ اس کو ماننے کے بعد بھی شرک کا وہ معیار تھا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ ہم مرزا غلام قادیانی کی پوجا کرنے ائے ہیں۔ مجھے تو وہاں پر ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم نماز جو ہے وہ خدا کی ذات کے لیے پڑھ رہے ہیں۔ مجھے تو بالکل ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ جو ادھر کا معیار ہے زندگی کا وہ بالکل ایسے تھا کہ جیسے ہم مرزا قادیانی کی پوجا کرنے ائے ہیں۔

Interviewer:

What did you see in Qadian and how did you find it there?

Ex-Qadiani:

They give the status of Mecca to Qadian. The old name of Chenab Nagar was Rabwa, they named it themselves. At first it was called Chakiyan. Then after that Rabwa Rakha then New Qadian and then Chenab Nagar.

When we used to write letters, Mirza Tahir was at that time. When he used to write letters to him, he used to write on the side of the letter Rabwa Madina Munawara. Yes, I remember very well that Qadian was Makkah, our mind was so trapped by them. And the name of that time was Rabwa, together we used to write Rabwa Madina Munawara. We used to write on letters ourselves.

So after going here, the devotion that I went with or my mother or a whole group went with, there was nothing like that here. We were told the stories of Minarat al-Masih, the pictures were shown to us, their programs are played on the dish anteena, and they show the minaret as if it is the brightest minaret in the world. But it is in the middle of the settlement and has no separate status. Long lines are drawn to the Minarat al-Masih which is built, to touch it, to go around it, there are thin steps inside it, only two people go up. Going up with so much trouble, then kissing, then throwing your dupatta on it, Manarat al-Masih means now this dupatta has been filled with great devotion.

Then, his house of prayer, in which Mirza Qadiani used to sit and pray, used to say that it was a toilet. It is small enough to accommodate three people. If he prays in it, he will go directly to heaven without reckoning. So the lines for that seemed so long that I used to see the elderly people standing in the lines with such difficulty. First of all, they have reached Qadian, boarded the trains, then boarded the buses, then got off and now it is in the lines. And it was winter days, it was so cold, this festival is held in December, it is called Jalsa, it is held in December. So it’s just like the Lucky Arani Circus, sometimes you go here, sometimes you go there. Then going to Mirza Qadiani’s grave every day, then Mirza Qadiani used to face his women in the cluster of his wives and different women. It was a privilege to go to the station, that is, to see the train. We went to two trains and if someone found a stone on the way, if a stick was found here, then kiss it and keep it in the bag with you.

So the blind sword of devotion I saw here, even after accepting it, had the quality of polytheism that it seemed as if we had come to worship Mirza Ghulam Qadiani. I didn’t even feel for a moment there that we were praying for God’s sake. I was just getting to know that the quality of life here was just like we had come to worship Mirza Qadiani.

https://www.youtube.com/watch?v=4b3r8FJhUoE